ابنا: یہی وجہ ہےکہ سامراجی طاقتوں نے اس علاقے پر ہمیشہ ہی کسی نہ کسی طرح سے قبضہ کرنے کی کوشش کی ہے۔جدیدسامراجی طاقت امریکہ نے دوسری جنگ عظیم کےبعد سے مشرق وسطی کے ظالم اور ڈکٹیٹر حکمرانوں کی حمایت کرکے اس علاقے پر اپنا قبضہ جمانے اور اس طرح اپنے ناجائز اھداف حاصل کرنےکی کوشش کی اوروہ اپنےمذموم عزائم میں کامیاب بھی رہا۔ امریکی حکومت نے گذشتہ دھائيوں میں مشرق وسطی کے سیاسی جغرافیا کو اپنے مفادات کے مطابق تبدیل کرنے کی پالیسیاں اپنائي تھیں لیکن اسے اس راہ میں چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ ان چیلنجوں میں سب سے بڑا چیلنچ انیس سو اناسی میں اسلامی انقلاب کی کامیابی تھی۔ اسلامی انقلاب نے علاقے میں سیاسی حالات کو بدل کررکھ دیا۔ امریکہ نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد مشرق وسطی میں اپنی پالیسیوں کو ایران مخالفت پراستوار کیااور اسی بناپر اس نے علاقے کی بعض غیر جمہوری اور ظالم و آمر حکومتوں کےساتھ ایران مخالف محاذ تشکیل دیا۔ ایران کی مخالفت کرنے کےعلاوہ امریکہ کی سرپرستی میں بعض عرب ملکوں کے اس محاذ کا دوسرا ھدف صیہونی حکومت کو گوشہ نشینی سے نکالنا اورساز باز مذاکرات کو دوبارہ زندہ کرکے اسے قانونی حیثیت عطا کرنا تھا۔ گیارہ ستمبر دوہزار ایک کے حملوں کے بعد دہشتگردی سے مقابلے کا بہانہ بناکر امریکہ نے مشرق وسطی پرحملہ کیا اور اس علاقے کے لوگوں پر اپنی مرضی مسلط کرنا چاہی۔ نئے مشرق وسطی کے بارےمیں امریکہ کے منصوبے اس کےسیاسی اور ثقافتی اھداف پر مشتمل تھے اور دراصل امریکہ ان منصوبوں کے تحت سفارتی ذرایع سے اپنی فوجی پالیسوں کو ہی لاگو کرنا چاہتاتھا۔ افغانستان اور عراق میں امریکہ کی ناکامی اور تینتیس روزہ جنگ میں حزب اللہ لبنان کے ہاتھوں صیہونی حکومت کی شکست فاش نیز غزہ پربائيس روزہ جارحیت میں صیہونی حکومت کی ناکامی وہ وجوہات تھیں جن کی بناپر امریکہ کےنئے مشرق وسطی اور گریٹر مشرق وسطی کے منصوبے مکمل طرح سے ناکام ہوگئے۔ ان ناکامیوں کےباوجود امریکہ مشرق وسطی میں اپنے پٹھو مستبد اور ظالم حکمرانوں کے سہارے اپنے اھداف حاصل کرنے کی امید لئے ہوئےتھا لیکن شاید وہائٹ ہاوس کے مکینوں کویہ نہیں معلوم تھاکہ ان کی پٹھو حکومتیں اس قدر کھوکھلی اور ناپائدار ہیں جو ہوا کے ایک جھونکے سے گرجائيں گي۔ عرب حکومتوں کی سرنگونی کا آغاز تیونس میں چود فروری کو زین العابدین بن علی کی آمرانہ حکومت کے خاتمے سے ہوا۔ اس کے بعد مصر میں حسنی مبارک کی حکومت گرگئی جو امریکہ کا سب سےبڑا اتحادی تھا حسنی مبارک کی حکومت صرف اٹھارہ دن کے عوامی مظاہروں کےبعد سرنگوں ہوگئي۔ مصر میں عوامی انقلاب کے تحت تیس برسوں کی حسنی مبارک کی آمرانہ حکومت کی سرنگونی کےبعد دیگر ملکوں کے عوام کو یہ احساس ہوا کہ وہ بھی مصر کے عوام کی طرح پائداری استقامت اور اتحاد و شجاعت کا ثبوت دے کر اپنے اپنے ملکوں پرمسلط ڈکٹیٹروں کا خاتمہ کرسکتےہیں۔چنانچہ عرب ملکوں کے عوام میں اس خود اعتمادی کے آنے کےبعد خلیج فارس سے لیکر شمالی افریقہ کے ظالم اور جابرنیز ڈکٹیٹرحکمرانوں کےخلاف عوامی انقلاب شروع ہوگئے۔ امریکی اور یورپی حکومتیں ان تحریکوں اور مشرق وسطی میں سب سےبڑے ڈکٹیٹر حسنی مبارک کی حکومت کی سرنگونی سے حیران رہ گئے اور اس طرح کئي دہائیوں کے دوران ان کی عظیم سرمایہ کاری خاک میں مل گئي ۔کیونکہ مصرمیں آنےوالےانقلاب اور اس کےبعد وہاں کےحالات نےامریکہ پرواضح کردیاکہ عوامی انقلاب کےنتیجےمیں آنےوالی حکومتیں کبھی بھی اس کی وفادار اور کٹھ پتلی بن کرنہيں رہ سکتیں۔اورشاید یہی وجہ ہےکہ کئی ہفتوں سےلیبیا، بحرین ، سعودی عرب اوردوسرےعرب ملکوں میں جاری آزادی کی تحریکوں کی نہ صرف یہ کی وہ حمایت نہيں کررہاہےبلکہ اس کےحکام بحرین جیسےملکوں کادورہ کرکےعوامی تحریکوں کوکچلنے کافرمان اورڈکٹیٹروں سےاپنی حمایت کااعلان کررہےہيں۔سعودی عرب میں بھی جب عوام اپنےمطالبات اوربنیادی حقوق کےحصول کےلئےسڑکوں پرنکلے توامریکہ کی مدد سےحجازپرقابض خاندان سعود نےنہ صرف عوامی مظاہروں کوسختی سےکچل دیابلکہ درباری ملاؤں نےہرطرح کےمظاہروں کےحرام ہونےکافتوی جاری کردیاجبکہ حقیقت پسندعلماء نے درباری ملاؤں کے فتووں کومسترد کرتے ہوئے احتجاجی مظاہروں کو دین وشریعت کےمطابق قراردیا۔ اپنےحقوق کےمطالبےکےلئے عوامی مظاہرے چاہےلیبیامیں ہوں یابحرین میں ، یمن میں ہوں یاعمان میں، سعودی عرب میں ہوں یاکسی دوسرےملک میں زود یابدیر کامیاب ضرورہوں گے لیکن اس بیچ تاریخ نےیہ ضرور ثابت کردیاکہ امریکہ کاجمہوریت کادعوی سفید جھوٹ ہے اس کےلئےاس سےکوئی فرق نہيں پڑتاکہ کس ملک میں جمہوریت ہےاورکہاں آمریت، اس کےلئےاہمیت صرف اس بات کی ہےکہ اس کےمفادات کس سےپورےہورہےہيں چنانچہ آج لیبیا، بحرین ، اورسعودی عرب میں عوام کےخون کی ارزانی ہے لیکن امریکہ خاموش تماشائی بناہواہے۔
..............
/110